Thursday, 8 July 2021

کبھی جو ملتا تو پوچھتی میں

 کبھی جو ملتا

تو پوچھتی میں

گلاب موسم کی خواہشوں میں

عذاب رُت سے اُلجھنے والے

ندیم میرے

ازل سے دل میں مقیم میرے

ذرا بتاؤ

بچھڑ کے مجھ سے سمے کی بہتی ندی میں کوئی ملال آیا؟

کہ زرد لمحوں کے اُڑتے گرد و غبار میں پھر

کسی کا رنگیں خیال آیا؟

کبھی ہوا ہو

کہ بے یقینی کے راستوں کی

کڑی مسافت میں جھلملایا

کسی کا سایہ

کہ پھر بتاؤ، کبھی ہوا ہو

کسی گماں کے یقین بننے کی آرزو میں

ہتھیلیوں پر

دعا کی ننھی حسین چڑیوں نے گیت گایا

کہ پنچھیوں کی صدا پہ کوئی

کریم بادل اُمڈ کے آیا

تو یاد برسی

کبھی ہوا ہو

جو یاد برسی تو بارشوں کا ہر ایک قطرہ

مشامِ جاں پر برس گیا ہو

مگر ہو دل کی زمین پیاسی

ہزار خوشیوں کے جمگھٹے میں

تمہاری انگلی

پکڑ کے چلتی رہی اداسی

کبھی ہوا ہو

کبھی ہوا ہو

ندیم میرے

جو طاقِ مینا میں جلتے روشن ستارے دیکھے

تو ایک دل میں خلش سی اُبھری

کہ ان ستاروں کی انجمن میں کوئی تو اپنا بھی تارا ہوتا

تبھی ہوا ہو

کہ جھلملاتے سے ایک پیکر نے

بڑھ کے روشن، صبیح ماتھے پہ چاند ٹانکا

تو چاندنی کی حسین کرنوں نے

لب سے چُھو کر گلاب رکھے

سنہری پلکوں پہ خواب رکھے

ازل سے دل میں مقیم میرے

بتاؤ مجھ کو ندیم میرے

کبھی ہوا ہو

کہ دل کے حُجرے میں طاقچے پر

وہ جوف دارِ چراغِ الفت

جلا ہو جس دم

تو ہنستے ہنستے ہی دل میں کوئی گِرہ پڑی ہو

تبھی ہوا ہو

کہ یاد میری رُلا گئی ہو

کبھی لگا ہو

کہ واجبی سا کوئی تعلق

تمام رشتوں، تمام ناتوں سے بڑھ گیا ہو

کہ ترکِ خواہش کا تیر سینے میں گَڑ گیا ہو

تبھی ہوا ہو

کہ دل کے طاقِ فیروز رنگ میں

کسی کے واپس پلٹ کے آنے کی 

حاوی ہوتی ہوئی سی مہکی مُراد لے کر

کسی ولی کا وسیلہ دے کر

چراغ اشکوں سے پھر جلایا

مگر یہ تب تھا

کہ زندگی کے اسی سفر میں

مجھے وہ کچھ پل ملا تو ہوتا

ملا جو ہوتا

تو پوچھتی میں


جینا قریشی

No comments:

Post a Comment