ان کی چشمِ کرم کی عطا ہو گئی
زخمِ دل کو مِرے پھر شفا ہو گئی
پہلے اک آئینہ تھی میں اس کے لیے
ٹُوٹ کر ہر طرف، ہر جگہ ہو گئی
آنسوؤں سے فلک پر سـتارے بنے
میرے کاجل سے شب یہ سیہ ہو گئی
یہ نہیں ہے کہ تُو دُور مجھ سے ہوا
در حقیقت میں تجھ سے جُدا ہو گئی
جینا قریشی
No comments:
Post a Comment