محبوب بھی تُو
دلدار بھی تُو
میرے سینے کی جھنکار بھی تُو
تُو قبلہ بھی ہے، کعبہ بھی
تُو مندر ہے، بت خانہ بھی
تُو راز ہے بے خود ہستی کا
تُو ایک حوالہ مستی کا
تُو میرے کیف کی دنیا ہے
تُو چاند ہے میری بستی کا
الہام بھی تُو
وجدان بھی تُو
میرا دیِن، دَھرم، ایمان بھی تُو
میری وحی بھی تُو
میری سعی بھی تُو
آگہی بھی تُو، ان کہی بھی تُو
تُو فرض ہے، تُو ہی واجب بھی
تُو نیم شبی کی ایک دعا
تُو ہی میری صبحِ کاذب بھی
میری مسجد، مسلک، فرقہ بھی
میری چوکھٹ بھی تُو
سجدہ بھی
ہوئی یہ بھی کرامت تجھ کو عطا
تیرا ہاتھ ہے مجھ کو دست شفا
آنکھوں میں بسا ہے
طُور ہے تُو
سینے میں تجلّیِ نُور ہے تُو
میرا ورد، وظیفہ نام تیرا
میرے اندر چرچا عام تیرا
جینا قریشی
No comments:
Post a Comment