Friday, 17 September 2021

کثرت اولاد سے ہم اس قدر بیزار ہیں

 کثرت اولاد


کثرت اولاد سے ہم اس قدر بے زار ہیں

اب تو بیگم سے الگ رہنے کو بھی تیار ہیں

اب یہ عالم ہے کہ جس کمرے میں بھی ڈالو نظر

گھر کے ہر کونے میں ہیں بکھرے ہوئے لخت جگر

اپنی بیگم پر ہوئے شام و سحر ہم یوں نثار

پوسٹروں کی شکل میں رسی پہ لٹکا ہے وہ پیار

جس طرف بھی دیکھیۓ اولاد ہی اولاد ہے

خانہ آبادی کے بعد اب خانۂ برباد ہے

سرد آہیں دیکھ کر بیگم کو ہم بھرنے لگے

مسکرا کر دیکھنے سے ان کے ہم ڈرنے لگے

چڑچڑے کچھ اس قدر ہم ہو رہے ہیں آج کل

رکھ کے خنجر درمیاں میں سو رہے ہیں آج کل

خون کے آنسو ہم اپنے حال پر رونے لگے

پہلے سنگل ہو رہے تھے اب ڈبل ہونے لگے

مجھ کو یہ ڈر ہے کبھی شیطان بہکانے لگے

ہم میاں بیوی قریب آنے سے کترانے لگے

ہم کسی تقریب میں ہوں یا کسی بارات میں

لوگ ڈر جاتے ہیں بچے دیکھ کر ہی ساتھ میں

دیکھ کر لوگوں کا غصہ کتنے گھبرائے تھے ہم

اپنے بچوں کی جگہ ان کے اٹھا لائے تھے ہم

ساس بھی اب تو ہمیں کچھ دن کو بلواتی نہیں

اور، بیگم بھی بنا بلوائے خود جاتی نہیں

اس دفعہ پھر جب ولادت کا ہوا تھا سلسلہ

آ گئے آنکھوں میں آنسو میں نے رو کر یوں کہا

میرے گھر میں تو بہت پہلے ہی سے بھرمار ہے

اور تُو دنیا میں آنے کے لیے تیار ہے

ٹال دے اپنی ولادت اور کچھ دن کے لیے

تُو نے ہم سے کون سے بدلے یہ گن گن کے لیے

کیا کہوں حالات اپنے آج کل ایسے نہیں

اب تو مرنے کے لیے بھی جیب میں پیسے نہیں

کوئی بیماری اگر آ جائے تو جاتی نہیں

خرچ کے ڈر سے ہمیں تو موت بھی آتی نہیں


نشتر امروہوی

نشتر امروہی

No comments:

Post a Comment