Friday, 17 September 2021

ہر قدم خوف ہے دہشت ہے ریاکاری ہے

 ہر قدم خوف ہے دہشت ہے ریاکاری ہے

روشنی میں بھی اندھیروں کا سفر جاری ہے

طاقتِ کفر نے کُہرام مچا رکھا ہے

جانے کس کس کو مٹانے کی یہ تیاری ہے

مل کے سب قہر بپا کرتے ہیں انسانوں پر

ہے جنوں ذہن میں اور آنکھ میں چنگاری ہے

اپنے انداز سے ایک ساتھ یہاں پر رہنا

یہ ہماری ہی نہیں تیری بھی لاچاری ہے

ہو غریب اور امیر چاہے ہو بوڑھا بچہ

کون ہے اپنی جسے جان نہیں پیاری ہے

ہم نے ہر عہد میں رکھا ہے بھرم تیرا جب

تُو ہی اے وقت! بتا، کیا یہ وفاداری ہے

اس کو دنیا میں کوئی آنکھ دکھا سکتا ہے کیا

رشک جس قوم میں احساس ہے بیداری ہے


فیاض رشک

No comments:

Post a Comment