اوندھے منہ گرنے سے پہلے
مجھے مت اس طرح دیکھو
کب تک یوں ہی برستا رہے گا چابک
میری تھکی ہوئی پیٹھ پر
سرپٹ بھاگتے بھاگتے
میری سانسیں اُکھڑ چکی ہیں
آنکھیں حلقوں سے باہر
میرے ساتھ پہلا قدم مارنے والے
جانے کہاں تھم گئے ہیں
اور تیز، اور تیز، کی صدا
خون کی روانی میں لاوے انڈیل رہی ہے
میں ہر ضرب کو مات دے کر
اپنی کسر کی پروا نہ کرتے ہوئے
شاید اک دم سے رک جاؤں
تماشا دیکھوں
اپنے پرزوں کے اڑنے کا
لیکن ان کا کیا ہو گا
جنہوں نے مجھ پر داؤ لگا رکھے ہیں
شہناز نبی
No comments:
Post a Comment