Friday, 14 May 2021

لہو تیزاب کرنا چاہتا ہے

 لہو تیزاب کرنا چاہتا ہے

بدن اک آگ دریا چاہتا ہے

میسر سے زیادہ چاہتا ہے

سمندر جیسے دریا چاہتا ہے

اسے بھی سانس لینے دے کہ ہر دم

بدن باہر نکلنا چاہتا ہے

مجھے بالکل یہ اندازہ نہیں تھا

وہ اب رستہ بدلنا چاہتا ہے

نئی زنجیر پھیلائے ہے بانہیں

کوئی آزاد ہونا چاہتا ہے

رُتیں بدلیں نئے پھل پھول آئے

مگر دل سب پرانا چاہتا ہے

سکوں کہیے جسے ہے راستے میں

دو اک پل ہی میں آیا چاہتا ہے

ہوا بھی چاہئے اور روشنی بھی

ہر اک حجرہ دریچہ چاہتا ہے

بگولوں سے بھرا ہے دشت سارا

یہی تو روز صحرا چاہتا ہے


اکرم نقاش

No comments:

Post a Comment