Friday, 14 May 2021

صرف تیری ہی تھی تلاش ہمیں

 صرف تیری ہی تھی تلاش ہمیں

اب کسی کی نہیں ہے آس ہمیں

آؤ بانہوں میں اپنی بھر لوں میں

کہہ رہا آج یہ آکاش ہمیں

زندگی تیری قید میں گزرے

اب نہیں کوئی فکر معاش ہمیں

پیار کی بے خودی کے کیا کہنے

ہوش آئے اب نہ کاش ہمیں

جیت لیں گے اب ہر اک بازی

کھیلنا آ گئے ہیں تاش ہمیں

لے تِری دسترس میں آ ہی گئے

جیسے چاہے تو اب تراش ہمیں

تھیں کٹھن عشق کی راہیں ہمدم

کوئی آئی نہیں خراش ہمیں

بستہ رازوں سے ایک راز تھے ہم

آپ نے کر دیا ہے فاش ہمیں

اس نے چھو کر مرے جذبات کو جلا بخشی

ورنہ کہتے تھے سب اک لاش ہمیں


فرخندہ جاوداں

No comments:

Post a Comment