صرف تیری ہی تھی تلاش ہمیں
اب کسی کی نہیں ہے آس ہمیں
آؤ بانہوں میں اپنی بھر لوں میں
کہہ رہا آج یہ آکاش ہمیں
زندگی تیری قید میں گزرے
اب نہیں کوئی فکر معاش ہمیں
پیار کی بے خودی کے کیا کہنے
ہوش آئے اب نہ کاش ہمیں
جیت لیں گے اب ہر اک بازی
کھیلنا آ گئے ہیں تاش ہمیں
لے تِری دسترس میں آ ہی گئے
جیسے چاہے تو اب تراش ہمیں
تھیں کٹھن عشق کی راہیں ہمدم
کوئی آئی نہیں خراش ہمیں
بستہ رازوں سے ایک راز تھے ہم
آپ نے کر دیا ہے فاش ہمیں
اس نے چھو کر مرے جذبات کو جلا بخشی
ورنہ کہتے تھے سب اک لاش ہمیں
فرخندہ جاوداں
No comments:
Post a Comment