کوئی خُود سے سوا نہیں ہوتا
بندہ ہرگز خُدا نہیں ہوتا
دل ہمارا ہے یا تمہارا اب
ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوتا
جانے والا اگر نہیں آتا
خانۂ دل سجا نہیں ہوتا
کیا قیامت تھی آپ کا دیدار
روز یہ سانحہ نہیں ہوتا
دو قدم میرے ساتھ تو چلتے
تم سے اتنا بھی کیا نہیں ہوتا
لوگ تو وضع تک نِبھاتے ہیں
تم سے وعدہ وفا نہیں ہوتا
یہ تو دیکھا کہ کیا ہُوا رُخسار
یہ بھی دیکھو کہ کیا نہیں ہوتا
رخسار امروہوی/رخسار امروہی
سیدہ رخسانہ زہرا
No comments:
Post a Comment