وہ جو درد تھا تِرے عشق کا وہی حرف حرف سخن میں ہے
وہی قطرہ قطرہ لہو بنا،۔ وہی ریزہ ریزہ بدن میں ہے
وہ نسیم جانے کہاں گئی، وہ گلاب جانے کدھر کھلے
کوئی آگ پچھلی بہار کی مِرے قلب میں نہ چمن میں ہے
یہی وقت سیل رواں لیے مِری کشتیوں کو ڈبو گیا
کوئی لہر آب حیات کی ابھی گنگ میں نہ جمن میں ہے
دمِ صبح آج ہے دوپہر نہ وہ چہچہے نہ وہ زمزمے
وہ پرندے اڑ کے کہاں گئے کوئی شور گاؤں نہ بن میں ہے
جو ستارہ قبلۂ راہ تھا وہ شرار بن کے بجھا نعیم
یہ زمین چادر خاک ہے مِرا چاند جب سے گہن میں ہے
حسن نعیم
No comments:
Post a Comment