Sunday, 17 October 2021

لفظ کلہاڑی بنے اور بات آری ہو گئی

 لفظ کلہاڑی بنے، اور بات آری ہو گئی

مجھ سے کل بے ساختہ تخریب کاری ہوگئی

پہلے دل ٹوٹا کسی آئینہ خانے کی طرح

پھر مِری پلکوں سے خوں کی نہر جاری ہو گئی

ہاتھ آخر آ گیا اپنے گریباں تک مِرا

خود کلامی میں عجب وحشت سی طاری ہو گئی

اپنے گم ہونے کا خود اعلان کرنا پڑ گیا

آئینے سے شکل میری اشتہاری ہو گئی

ایسے منظر بھی دکھائے گردشِ حالات نے

جن سے میری قوتِ بینائی عاری ہو گئی


راحت سرحدی

No comments:

Post a Comment