Sunday, 17 October 2021

میں نے جینا کب سیکھا

 میں نے جینا کب سیکھا

جب میں نے مرتے ہوئے لوگوں کو

زندگی بچانے کے لیے 

اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیتے، سسکتے دیکھا

موت نے اگرچہ انہیں شکست دے دی تھی 

لیکن وہ اپنی آخری سانس تک لڑتے رہے

میں نے جینا سیکھا

جب میں نے اپنے پکے مکان کی چھت سے 

بارش کے قطروں کو گرتے دیکھا

لیکن تبھی میرا گزر اس کچے مکان کی طرف ہوا

جہاں پورے کا پورا گھر بارش کے رحم و کرم پر تھا

میں نے آنکھوں کی نمی کو بھیگتے پوروں سے پونچھا

آنسوؤں کے قطروں کو بارش کے قطروں نے خود میں جذب کر لیا تھا

بارش پورے قہر کے ساتھ غریب کی کٹیا پر برس رہی تھی

میں بارش میں بھیگتی، تیز قدموں سے چلتی بالآخر گھر پہنچ ہی گئی

گھر آتے ہی اپنے کمرے کا رخ کیا

کمرے کی صحیح و سالم چھت تلے سجدۂ شکر ادا کیا

اے اللہ! تُو نے حفاظت کے لیے چھت دی

وہ بھی تو ہیں جن کی کوئی چھت نہیں

وہ بارش کے رحم و کرم پر ہیں

ان پر رحم فرما

میں نے زندگی کو جینا سیکھا

جب میں اپنے مرحومین کی یاد میں رو رہی تھی

دوست کا آنا ہوا

ابھی آنسوؤں کو پوروں سے صاف ہی کیا تھا کہ وہ بول پڑی؛

دادی کی یاد آ رہی ہے یا ابا کی؟

دیکھو، میری تو ماں بھی نہیں ہے

میں تو پھر بھی نہیں روتی

اس کے یہ لفظ میرے دل کو ہلا گئے

کمرے میں جاتے ہی ماں کے قدموں کو چوما

پھر سے سجدۂ شکر کیا کہ

میری ماں میری جنت تو میرے پاس ہے

میں نے جینا سیکھا

جب مجھے والد نے زندگی کا مطلب بتایا

زندگی کے نشیب و فراز ان کی قربت میں بتائے

خوشیاں تو تب میرے آنگن میں جیسے رقص کرتی تھیں

پھر کیا ہوا

وقت کی بے رحم موج نے مجھے ان سے جدا کر دیا

ان کی جدائی سے جیسے زندگی ختم ہو گئی تھی

پھر میں نے بلکتے ہوئے ایک معصوم بچے کو دیکھا

جس کے رونے کا سبب پوچھا 

تو سسکتی ہچکیوں تلے وہ بس اتنا کہہ سکا؛

باپ تو تھا نہیں، آج ماں بھی چلی گئی

مجھے زندگی سمجھ آنے لگی

جینے کا حوصلہ بڑھنے لگا

میرا غم تو زندگی کی کوکھ کے گرد 

بہتے سمندر میں ایک قطرے کے مانند ہے بس

لوگ تو غموں کا بوجھ لیے 

پورے کے پورے اس سمندر میں غوطہ زن ہیں

ہم اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کا رونا رونے لگتے ہیں

کبھی آنکھیں کھول کر دنیا دیکھیں

جان جائیں گے زندگی کی حقیقت

ٹھیک ہے، ہو سکتا ہے جو لوگوں کے پاس ہے 

وہ آپ کے پاس نہ ہو

لیکن ذرا سوچیۓ جو آپ کے پاس ہے 

وہ شاید بہت سے لوگوں کے پاس نہیں


ارم شفیق

No comments:

Post a Comment