Sunday, 11 April 2021

کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے

 کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے

ہر زمانے میں شہادت کے یہی اسباب تھے

کوہ سے نیچے اتر کر کنکری چُنتے ہیں اب

عشق میں جو آبجو تھے جنگ میں سیلاب تھے

ساز و ساماں تھے ظفر کے پر وہ شب میں لٹ گئے

خاک و خوں کے درمیاں کچھ خواب کچھ کم خواب تھے

کیا دمِ رخصت نظر آتے خطوطِ دلبری

نقش تھے اس چاند کے لیکن بہ شکل آب تھے

میں عدو کی جستجو میں تھا کہ اک پتھر لگا

مڑ کے دیکھا تو سناں تانے ہوئے احباب تھے

تھے بہت نایاب وہ نورِ قلم، زورِ بیاں

شعلہ اٹھا جب جنوں کا پھر وہی نایاب تھے

کیا فراق و فیض سے لینا تھا مجھ کو اے نعیم

میرے آگے فکر و فن کے کچھ نئے آداب تھے


حسن نعیم

No comments:

Post a Comment