اداس پل میری سانسوں کے چھین لے کوئی
یہ خار بھی میری راہوں کے چھین لے کوئی
خراب کر کے جو عادت یہ چھوڑ دیتے ہیں
سکون بے وفا بانہوں کے چھین لے کوئی
یہ مجھ کو یاد دلاتے ہیں تیرے چہرے کی
یہ رنگ روپ گلابوں کے چھین لے کوئی
گھٹن گھٹن ہے، تعفن زدہ یہ بستی ہے
سیاہ دور رواجوں کے چھین لے کوئی
اگر نصیب یہ محتاج ہے لکیروں کا
تو یہ نقوش بھی ہاتھوں کے چھین لے کوئی
زہر ہی زہر ہے خوشرنگ قبا کے پیچھے
یہ پیرہن تیرے لفظوں کے چھین لے کوئی
عامر معان
No comments:
Post a Comment