Wednesday, 7 January 2026

دل میں آسیب تمنا کو چھپانے والے

 دل میں آسیبِ تمنّا کو چُھپانے والے

ساتھ میں رو لے کبھی مجھ کو رُلانے والے

لاکھ تعویذ بندھے، خوب دعائیں مانگیں

مگر آئے ہی نہیں لوٹ کے آنے والے

کیا گزرتی ہے مِرے دل پہ جُدائی میں تِری

تجھ کو احساس بھی ہے چھوڑ کے جانے والے

یاد آتے ہیں تو آتے ہی چلے جاتے ہیں

دل سے جاتے ہی نہیں دل کو دُکھانے والے

عمر بھر ڈھونڈتے پھرتے رہے قدموں کے نشاں

میرے قدموں سے قدم اپنے ملانے والے

زندگی تُو نے ہمیں چین سے جینے نہ دیا

اب نہیں ہم بھی تِرے ناز اُٹھانے والے

میری تقدیر فقط تُو ہی بدل سکتا ہے

میری تقدیر بدل دنیا بنانے والے

دیکھو کس طرح بدل جائے گا یہ وقت کا کھیل

خود بھی گِر جائیں گے اوروں کو گرانے والے

ڈُوبنا ان کا مقدر تھا سو ڈُوبے، ورنہ

تیر بھی سکتے تھے یہ کشتی بنانے والے


آفرین فہیم آفی

No comments:

Post a Comment