Thursday, 8 January 2026

عمر بھر میں تو امانت میں خیانت نہ کروں

 عمر بھر میں تو امانت میں خیانت نہ کروں

صبر اور شکر کروں تیری شکایت نہ کروں

درد مظلوم کا سینے میں بسا لوں اپنے

بھول کر بھی کبھی ظالم کی حمایت نہ کروں

تیری مرضی میں ہی شامل رہے مرضی میری

کام کوئی بھی بِنا تیری اجازت نہ کروں

زخم کھا کر بھی دُعا دینا ہے فطرت اپنی

دُشمنوں سے بھی کبھی میں تو عداوت نہ کروں

یہ مِرے صبر کی ہے آخری منزل جاناں

ظلم پر ظلم سہوں، اور شکایت نہ کروں

سارے بچے مِرے اک ساتھ رہیں گے گھر میں

زندہ جب تک رہوں تقسیم وراثت نہ کروں

اس کی چاہت نے مجھے زندہ رکھا ہے مہرو

مر ہی جاؤں گی اگر اس سے محبت نہ کروں


مہرالنساء مہرو

No comments:

Post a Comment