عمر بھر میں تو امانت میں خیانت نہ کروں
صبر اور شکر کروں تیری شکایت نہ کروں
درد مظلوم کا سینے میں بسا لوں اپنے
بھول کر بھی کبھی ظالم کی حمایت نہ کروں
تیری مرضی میں ہی شامل رہے مرضی میری
کام کوئی بھی بِنا تیری اجازت نہ کروں
زخم کھا کر بھی دُعا دینا ہے فطرت اپنی
دُشمنوں سے بھی کبھی میں تو عداوت نہ کروں
یہ مِرے صبر کی ہے آخری منزل جاناں
ظلم پر ظلم سہوں، اور شکایت نہ کروں
سارے بچے مِرے اک ساتھ رہیں گے گھر میں
زندہ جب تک رہوں تقسیم وراثت نہ کروں
اس کی چاہت نے مجھے زندہ رکھا ہے مہرو
مر ہی جاؤں گی اگر اس سے محبت نہ کروں
مہرالنساء مہرو
No comments:
Post a Comment