Thursday, 8 January 2026

کیسی برکت ترے درود میں ہے

 کیسی برکت تِرے درود میں ہے

اک ستارہ مِرے وجود میں ہے

وسوسے، ڈر، گُمان ہیں سب ہیچ

اک یقیں اب مِرے ورود میں ہے

سرحدوں پر بھی ہے نظر میری

دائرہ کار بھی حدود میں ہے

کب مزا ہے کسی رہائی میں

جو مزا عشق کی قیود میں ہے

سارا کمرا مِرا معطر ہے

تیرا احساس مشکِ عُود میں ہے

تیرے جانے سے یوں ہوا محسوس

جیسے سارا جہاں جمود میں ہے

ایک دنیا میں ہے وجود مِرا

ایک دنیا مِرے وجود میں ہے

اپنے افکار با وضو کر لو

مکتبِ عشق اب نمود میں ہے

یہ پیامِ سحر ہے نوشابہ

اک صباحت مِرے ورود میں ہے


نوشابہ حفیظ ہاشمی

No comments:

Post a Comment