Monday, 3 May 2021

دل کی مٹی چپکے چپکے روتی ہے

 دل کی مٹی چپکے چپکے روتی ہے

یار کہیں برسات غموں کی ہوتی ہے

بے چینی میں ڈوبے جبہ اور دستار

فاقہ مستی چادر تان کے سوتی ہے

پیار محبت رشتے ناطے پیر فقیر

دیکھ غریبی کیا کیا دولت کھوتی ہے

تیرا چہرہ دن کا دریا پار کرے

رات کی ساری ہلچل تجھ سے ہوتی ہے

جس کو ماجھی سمجھا اس کی ملاحی

ساحل ساحل میری ناؤ ڈبوتی ہے

دھرتی، امبر، ندیا، نالے، کھائی، پہاڑ

دو مصرعوں میں کیا کیا رنگ سموتی ہے

اس سے امجد باتیں کرنا کھیل ہے کیا

وہ تو لہجے کی اک سوئی چبھوتی ہے


غفران امجد

No comments:

Post a Comment