Monday, 3 May 2021

سامنے سے مرے کترا کے گئے ہیں ایسے

سامنے سے مِرے کترا کے گئے ہیں ایسے

میں نے دیکھا نہیں جاتے ہوئے ان کو جیسے

مشورے دیتے رہے جو مجھے مُخلص کی طرح

کیا کہوں ان سے بھی کھاتا رہا دھوکے کیسے 

بیچ دو سارا جہاں بھی تو نہیں بھر سکتا 

میرے کشکول میں آ سکتے ہیں اتنے پیسے 

اپنے قاتل بھی حقیقت میں وہی ہوتے ہیں 

کام لیتے ہیں لہُو کا جو شرابی مے سے 

ایک مُدت میں پرکھنے کا ہُنر آتا ہے 

بیوفا کہہ دوں اسے پہلی نظر میں کیسے 

قیمتی لعل بھی گدڑی میں ہُوا کرتے ہیں 

ایسوں ویسوں کو سمجھنا نہیں ایسے ویسے 

کُھلے ماحول میں جو مجھ کو لیے پھرتے ہیں 

ان کو واجد میں گُھٹن دل کی دِکھاؤں کیسے 


واجد سحری

No comments:

Post a Comment