Wednesday, 5 May 2021

عجب تھا زعم کہ بزم عزا سجائیں گے

 عجب تھا زعم کہ بزم عزا سجائیں گے

مِرے حریف لہو کے دیئے جلائیں گے

میں تجربوں کی اذیت کسے کسے سمجھاؤں

کہ تیرے بعد بھی مجھ پر عذاب آئیں گے

بس ایک سجدۂ تعظیم کے تقابل میں

کہاں کہاں وہ جبینِ طلب جھکائیں گے

عطش عطش کی صدائیں اُٹھی سمندر سے

تو دشت پیاس کے چشمے کہاں لگائیں گے

چھُپا کے رکھ تو لیا ہے شرارِ بُو لہبی

دُھواں اٹھا تو نظر تک ملا نہ پائیں گے

دراز کرتے رہو دستِ حق شناس اپنا

بہت ہوا تو وہ نیزے پہ سر اُٹھائیں گے

نواحِ لفظ و معانی میں گونج ہے کس کی

کوئی بتائے یہ امجد کہ ہم بتائیں گے


غفران امجد

No comments:

Post a Comment