Sunday, 16 May 2021

دل کا سکون آنکھ کا تارا کسے کہیں

 دل کا سکون آنکھ کا تارا کسے کہیں

یہ سوچنا پڑا ہے کہ اپنا کسے کہیں

یہ شور انقلاب، یہ ناقوس، یہ اذاں

ہنگامہ کون سا ہے، تماشہ کسے کہیں

رہبانیت کا جسم سے فسطائیت کی روح

کس کو رفیق خون کا پیاسا کسے کہیں

سب ملتے جلتے چہرے ہیں دشمن بھی دوست بھی

قاتل کسے بتائیں، مسیحا کسے کہیں

اتنا شعور دے ہمیں خلاق خیر و شر

خوار و زبوں ہے کون فرشتہ کسے کہیں

ملنا تھا جو نصیب سے وہ مل گیا ضیا

حسرت کسے بتائیں تمنا کسے کہیں


بختیار ضیا

No comments:

Post a Comment