تصویر میں جو قید تھے شاہکار کیوں روتے رہے
ہم زندگی سے اس قدر بے زار کیوں روتے رہے
ہم ہی نہتے تھے چلو، لشکر تو تیرے ساتھ تھا
جب قافلے لُٹتے رہے سردار کیوں روتے رہے
اس شہر کے روتے بلکتے لوگ مرتے جا رہے
فاروق آتا کیوں نہیں، دربار کیوں روتے رہے
کُچھ تو اثر ہوتا مِرے لفظوں کا تیری ذات پر
میں ڈائری لکھتی رہی اشعار کیوں روتے رہے
تُم نے کہا؛ اب راستے یکجا نہیں،٫ میں مر گئی
ہمدم مِرے تم جیت سے سرشار کیوں روتے رہے
اس بے حِنا سی عِید میں کوئی تو آ کے پوچھتا
تنہا مِرے گھر کے سبھی تہوار کیوں روتے رہے
میرا بکھرنا درد سے معمور تھا، مغموم تھا
تیری جدائی سے قبل آثار کیوں روتے رہے
اب آنکھ کا رونا تو مجبوری رہی، لیکن یہاں
الماریوں میں عشق کے بازار کیوں روتے رہے
اب تک ہمیں عادت نہیں ہو پائی تیرے ہجر کی
اک بار رونا چاہیے، سو بار کیوں روتے رہے
ہم روز ملتے تھے جہاں پگڈنڈیاں محفوظ ہیں
لمحات سارے ہیں خفا اتوار کیوں روتے رہے
مشال مراد
No comments:
Post a Comment