Saturday, 10 April 2021

ہو رہی تھی گفتگو آج ممکنات پر

 ہو رہی تھی گفتگو آج ممکنات پر

لا کے پھول رکھ دیا اس نے میرے ہاتھ پر

ہم سدا نبھائیں گے چھوڑ کر نہ جائیں گے

آ گئی ہمیں ہنسی آج ان کی بات پر

آپ ہی بتائیے ہم سے مت چھپائیے

آپ بھی تو تھے میاں جائے واردات پر

ہجر کی شبیں سبھی صبحیں ساری درد کی

کتنا بوجھ رکھ لیا ہم نے اپنی ذات پر

سب نراس کیوں ہوئے دل اداس کیوں ہوئے

سارے مل کے سوچیے ان معاملات پر

کوئی کیا سمجھ سکے ان کی اہمیت ہے کیا

غور کر رہا ہوں میں آج جن نکات پر


کمار پاشی

شنکر دت کمار

No comments:

Post a Comment