ہو رہی تھی گفتگو آج ممکنات پر
لا کے پھول رکھ دیا اس نے میرے ہاتھ پر
ہم سدا نبھائیں گے چھوڑ کر نہ جائیں گے
آ گئی ہمیں ہنسی آج ان کی بات پر
آپ ہی بتائیے ہم سے مت چھپائیے
آپ بھی تو تھے میاں جائے واردات پر
ہجر کی شبیں سبھی صبحیں ساری درد کی
کتنا بوجھ رکھ لیا ہم نے اپنی ذات پر
سب نراس کیوں ہوئے دل اداس کیوں ہوئے
سارے مل کے سوچیے ان معاملات پر
کوئی کیا سمجھ سکے ان کی اہمیت ہے کیا
غور کر رہا ہوں میں آج جن نکات پر
کمار پاشی
شنکر دت کمار
No comments:
Post a Comment