Monday, 22 March 2021

جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا

 جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا

سفر تو کرنا ہے اس کا ارادہ کیا کرنا

بس ایک رنگ ہے دل میں کسی کے ہونے سے

اب اپنے آپ کو اس سے بھی سادہ کیا کرنا

جب اپنی آگ ہی کافی ہے میرے جینے کو

تو مہر و ماہ سے بھی استفادہ کیا کرنا

تِرے لبوں کے سوا کچھ نہیں میسر جب

سو فکرِ ساغر و ساقی و بادہ کیا کرنا

تمام کشتیاں ساحل پہ ہیں ابھی ٹھہری

ابھی سے ان کو جلانے کا وعدہ کیا کرنا


ذیشان ساحل

No comments:

Post a Comment