Wednesday, 17 March 2021

میں اس کی انجمن میں اکیلا نہیں گیا

 میں اس کی انجمن میں اکیلا نہیں گیا

جو میں گیا تو پھر کوئی تنہا نہیں گیا

میں چاہتا تھا اس کی نگاہوں سے کھیلنا

لیکن ذرا سی دیر بھی کھیلا نہیں گیا

ممکن نہیں تھا حسن و نظر کا موازنہ

مجھ سے تو اس کو ٹھیک سے دیکھا نہیں گیا

تحویل میں کسی کی پہنچ کے ہے خوش وہ دل

جس کو کسی مقام پر رکھا نہیں گیا

دونوں طرف تھی ایک شکایت لکھی ہوئی

چاہا کبھی گیا,. کبھی چاہا نہیں گیا


ذیشان ساحل

No comments:

Post a Comment