باغ سارا بہار میں گم ہے
پھول اک جاں نثار میں گم ہے
چاند تاروں سے لڑ پڑا ہے اور
دیکھ سورج خمار میں گم ہے
جس پہ پردہ ہے اک حقیقت ہے
ایک تارہ مدار میں گم ہے
لوگ زندہ ہیں خاک ہو کر بھی
راز قول و قرار میں گم ہے
پہلے فکرِ خدا میں سب گم تھا
اور اب دو دو چار میں گم ہے
میں یہاں گم تلاشِ منزِل میں
وہ وہاں انتظار میں گم ہے
وقت مرنے کا بھی نہِیں اب تو
اک جہاں روزگار میں گم ہے
اب کسی پر بھروسہ مشکل ہے
آج سب اعتبار میں گم ہے
لوگ سب گم ہیں دنیاداری مِیں
اک سعید اپنے یار میں گم ہے
کامران سعید خان
No comments:
Post a Comment