Wednesday, 17 March 2021

باغ سارا بہار میں گم ہے

 باغ سارا بہار میں گم ہے

پھول اک جاں نثار میں گم ہے

چاند تاروں سے لڑ پڑا ہے اور

دیکھ سورج خمار میں گم ہے

جس پہ پردہ ہے اک حقیقت ہے

ایک  تارہ مدار میں گم ہے

لوگ زندہ ہیں خاک ہو کر بھی

راز قول و قرار میں گم ہے

پہلے فکرِ خدا میں سب گم تھا

اور اب دو دو چار میں گم ہے

میں یہاں گم تلاشِ منزِل میں

وہ وہاں انتظار میں گم ہے

وقت مرنے کا بھی نہِیں اب تو

اک جہاں روزگار میں گم ہے

اب کسی پر بھروسہ مشکل ہے

آج سب اعتبار میں گم ہے

لوگ سب گم ہیں دنیاداری مِیں

اک سعید اپنے یار میں گم ہے


کامران سعید خان

No comments:

Post a Comment