Friday, 19 March 2021

خواب جیسی کہیں کہیں شاید

 خواب جیسی کہیں کہیں شاید

زندگی ہے، مگر نہیں شاید

میں اکیلا ہوں، اور لگتا ہے

جیسے تُو ہے ابھی یہیں شاید

جس محبت کا ہے گُماں مجھ کو

اس پہ تجھ کو بھی ہے یقیں شاید

نظم جیسا ہے آسماں میرا 

گیت جیسی تِری زمیں شاید 


ذیشان ساحل

No comments:

Post a Comment