Sunday, 12 December 2021

میں جو خاموش رہوں سوز دروں چیختا ہے

میں جو خاموش رہوں، سوزِ درُوں چیختا ہے

پھر بھی خاموش رہوں، اور فزُوں چیختا ہے

وہ بھی کیا وقت تھا جب میرا جنُوں چیختا تھا

کیا زبوں حالی ہے، اب مجھ پہ زبُوں چیختا ہے

مجھ پہ جادُو ہے کسی شوخ نِگہ والے کا

ہر طرف آج یہی، رنگِ فسُوں چیختا ہے

بے حسی دیکھیے، اس قوم پہ طاری ہے سکوت

اور شہیدانِ گُلستان کا خُوں چیختا ہے

اب حرم میں بھی پُرستش ہے کسی اور ہی کی

گِرجا و دَیر کا مُحراب و ستُوں چیختا ہے

اتنا ہیجان ہے اب زیست میں برپا مصعب

میرے چُپ ہونے پہ خود میرا سکُوں چیختا ہے


مصعب شاہین

No comments:

Post a Comment