Sunday, 12 December 2021

زندگی اجنبی سی لگتی ہے

 زندگی اجنبی سی لگتی ہے

آپ کی اک کمی سی لگتی ہے

تم نہ آئے تو روشنی کیسی

دور تک تیرگی سی لگتی ہے

اس کا چہرہ ہے چاند سا چہرہ

یاد بھی چاندنی سی لگتی ہے

اس کے ہونٹوں سے پھول جھڑتے ہیں

وہ مجھے پُھل جھڑی سی لگتی ہے

اس کی آنکھوں میں روشنی کم ہے

نبض میں بر ہمی سی لگتی

ختم ہو گا نہ زندگی کا سفر

دور منزل کھڑی سی لگتی

دورِ حاضر تِرا خدا حافظ

رہبری رہزنی سی لگتی ہے

وہ نہیں بزم ناز میں داؤد

ایک اس کی کمی سی لگتی ہے


داؤد اسلوبی

No comments:

Post a Comment