زندگی اجنبی سی لگتی ہے
آپ کی اک کمی سی لگتی ہے
تم نہ آئے تو روشنی کیسی
دور تک تیرگی سی لگتی ہے
اس کا چہرہ ہے چاند سا چہرہ
یاد بھی چاندنی سی لگتی ہے
اس کے ہونٹوں سے پھول جھڑتے ہیں
وہ مجھے پُھل جھڑی سی لگتی ہے
اس کی آنکھوں میں روشنی کم ہے
نبض میں بر ہمی سی لگتی
ختم ہو گا نہ زندگی کا سفر
دور منزل کھڑی سی لگتی
دورِ حاضر تِرا خدا حافظ
رہبری رہزنی سی لگتی ہے
وہ نہیں بزم ناز میں داؤد
ایک اس کی کمی سی لگتی ہے
داؤد اسلوبی
No comments:
Post a Comment