اس کوچۂ دلدار کا چرچا بھی بہت ہے
لٹنے کا اسی راہ میں خطرہ بھی بہت ہے
مانا کہ سفر میں تو کڑی دھوپ ہے لیکن
سر پر مِرے ماں باپ کا سایا بھی بہت ہے
اس دورِ جنوں خیز میں ہر چیز ہے ارزاں
اس دور کے بازار میں دھوکا بھی بہت ہے
تم ظاہری اسباب پہ مغرور ہو، لیکن
مجھ کو مِرے خالق پہ بھروسہ بھی بہت ہے
اس کی تو کسی سے بھی طبیعت نہیں ملتی
وہ بھیڑ میں رہتا ہوا تنہا بھی بہت ہے
کرتا ہے مِرے سامنے وہ میری خوشامد
در پردہ مِرے نام سے جلتا بھی بہت ہے
اک عمر گزاری تھی بڑی شان سے جس نے
کوثر وہ مِرے شہر میں رسوا بھی بہت ہے
محب کوثر
No comments:
Post a Comment