Tuesday, 8 February 2022

چاند کی فصیلیں تھیں اور مکان شیشے کا

 چاند کی فصیلیں تھیں اور مکان شیشے کا

میں نے خواب میں دیکھا سائبان شیشے کا

کیسے میں بچا لیتی خود کو تیز سورج سے

موم سے بنی تھی میں اور مکان شیشے کا

اس قدر اڑی مٹی نقش مٹ گئے سارے

دھول میں چھپا دیکھو کاروان شیشیے کا

میری ذات پہ ناصح انگلیاں اٹھاتا ہے

وہ کہاں سے بن بیٹھا ترجمان شیشے کا

غیر کیلئے سج کے مجھ سے رائے لیتے ہو

دل لگی زمانے سے امتحان شیشے کا

میری کشتئ دل💗 تو ڈوبنا ہی تھی عینی

ریگ و سنگ کی لہریں بادبان شیشے کا


عینی زا سید

No comments:

Post a Comment