چاند کی فصیلیں تھیں اور مکان شیشے کا
میں نے خواب میں دیکھا سائبان شیشے کا
کیسے میں بچا لیتی خود کو تیز سورج سے
موم سے بنی تھی میں اور مکان شیشے کا
اس قدر اڑی مٹی نقش مٹ گئے سارے
دھول میں چھپا دیکھو کاروان شیشیے کا
میری ذات پہ ناصح انگلیاں اٹھاتا ہے
وہ کہاں سے بن بیٹھا ترجمان شیشے کا
غیر کیلئے سج کے مجھ سے رائے لیتے ہو
دل لگی زمانے سے امتحان شیشے کا
میری کشتئ دل💗 تو ڈوبنا ہی تھی عینی
ریگ و سنگ کی لہریں بادبان شیشے کا
عینی زا سید
No comments:
Post a Comment