کوئی تعویذ نا دھاگے نا دوائیں شاہا
تیری باندی کی شفا ہیں تِری بانہیں شاہا
ایک داسی ہی نہیں یاں کئی ہیریں سسیاں
کاسۂ چشم تِری راہ میں بچھائیں شاہا
کس کو فرصت ہے سنے قصۂ محرومِ کرم
ہم کہاں جائیں، کسے حال سنائیں شاہا؟
میں تو سمجھا تھا مجھے تُو ہی سمجھ سکتا ہے
تُو بھی دنیا ہے مگر، خیر، دعائیں شاہا
کیسے آسودگئ عشق و مہر جاری ہو
چھینی جاتی ہوں جہاں سر سےردائیں شاہا
کوئی تعبیر کہ صحرا سے مجھے آتی ہیں
خواب میں گھر کو پلٹ آ کی صدائیں شاہا
رزق پردیس میں جو لعل نگل لیتا ہے
منتظر بیٹھی کہاں جائیں یہ مائیں شاہا
خالی پن حزن نہیں کرب و بلا ہوتا ہے
چاٹ جاتی ہیں وجودوں کو خلائیں شاہا
علی بیراگ
No comments:
Post a Comment