Friday, 15 October 2021

اس ایک شخص سے جو کوئی سلسلہ نہیں ہے

 اس ایک شخص سے جو کوئی سلسلہ نہیں ہے

بھرے جہاں سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں ہے

ہمارا ہنسنا فقط منہ دکھائی ہے مولا

ہماری چیخ ہے یہ کوئی قہقہہ نہیں ہے

اندھیرا اپنی جگہ ہے مگر مِرے مولا

ہماری نیند پہ راتوں کا دبدبہ نہیں ہے

کہاں یہ رنج کہ پھینکے گئے ہیں کنوئیں میں

ملال یہ کہ یہاں کوئی قافلہ نہیں ہے

مِرا گِلہ ہے علی ہنس کے جا رہا ہے کوئی

فقط بچھڑنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے


علی بیراگ

No comments:

Post a Comment