اس ایک شخص سے جو کوئی سلسلہ نہیں ہے
بھرے جہاں سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں ہے
ہمارا ہنسنا فقط منہ دکھائی ہے مولا
ہماری چیخ ہے یہ کوئی قہقہہ نہیں ہے
اندھیرا اپنی جگہ ہے مگر مِرے مولا
ہماری نیند پہ راتوں کا دبدبہ نہیں ہے
کہاں یہ رنج کہ پھینکے گئے ہیں کنوئیں میں
ملال یہ کہ یہاں کوئی قافلہ نہیں ہے
مِرا گِلہ ہے علی ہنس کے جا رہا ہے کوئی
فقط بچھڑنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے
علی بیراگ
No comments:
Post a Comment