اس سے پہلے کہ کوئی اور اڑا لے جائے
جس کے ہاتھوں سے گرے ہیں وہ اٹھا لے جائے
ان دنوں دیکھ مِری جان! مِری آنکھوں میں
اتنا پانی ہے کہ سب خواب بہا لے جائے
کوئی بھی شخص نہیں رکھتا تِری خیر خبر
جس سے پوچھوں وہ پریشانی میں ڈالے جائے
شاخ سے ٹوٹ کے بکھرے ہیں سو اس کی مرضی
خشک پتوں کو جدھر چاہے ہوا لے جائے
ہم کو مطلب ہی نہیں کوئی کسی جنت سے
تیری بستی میں کسی روز خدا لے جائے
رنجشیں، درد و الم، تہمتیں، طعنے، طارق
تیرے کوچے سے کوئی جائے تو کیا لے جائے
طارق عزیز سلطانی
No comments:
Post a Comment