Saturday, 12 February 2022

اس سے پہلے کہ کوئی اور اڑا لے جائے

 اس سے پہلے کہ کوئی اور اڑا لے جائے

جس کے ہاتھوں سے گرے ہیں وہ اٹھا لے جائے

ان دنوں دیکھ مِری جان! مِری آنکھوں میں

اتنا پانی ہے کہ سب خواب بہا لے جائے

کوئی بھی شخص نہیں رکھتا تِری خیر خبر

جس سے پوچھوں وہ پریشانی میں ڈالے جائے

شاخ سے ٹوٹ کے بکھرے ہیں سو اس کی مرضی

خشک پتوں کو جدھر چاہے ہوا لے جائے

ہم کو مطلب ہی نہیں کوئی کسی جنت سے

تیری بستی میں کسی روز خدا لے جائے

رنجشیں، درد و الم، تہمتیں، طعنے، طارق

تیرے کوچے سے کوئی جائے تو کیا لے جائے


طارق عزیز سلطانی

No comments:

Post a Comment