سنتا رہتا ہوں توجہ سے بڑی بولتی ہے
رات کے پچھلے پہر کوئی پری بولتی ہے
لمس تیرا بھی مِرے یار کوئی جادو ہے
جس کو تو چُھو لے وہی چیز بڑی بولتی ہے
اپنی جانب سے تو پورا ہی بنایا اس نے
پھر بھی اس جسم سے اک تیری کمی بولتی ہے
ہم جنوں زاد کسی وقت جو چپ ہو جائیں
پھر ہماری جگہ آشفتہ سری بولتی ہے
وہ تو آتا ہی نہیں وقت گزرتا جائے
تنگ ہو کر یہ مجھے روز گھڑی بولتی ہے
اپنا گھر چھوڑ کے طارق تو یہاں پر آ جا
خواب میں آ کے مجھے اس کی گلی بولتی ہے
طارق عزیز سلطانی
No comments:
Post a Comment