Thursday, 3 March 2022

سنتا رہتا ہوں توجہ سے بڑی بولتی ہے

 سنتا رہتا ہوں توجہ سے بڑی بولتی ہے

رات کے پچھلے پہر کوئی پری بولتی ہے

لمس تیرا بھی مِرے یار کوئی جادو ہے

جس کو تو چُھو لے وہی چیز بڑی بولتی ہے

اپنی جانب سے تو پورا ہی بنایا اس نے

پھر بھی اس جسم سے اک تیری کمی بولتی ہے

ہم جنوں زاد کسی وقت جو چپ ہو جائیں

پھر ہماری جگہ آشفتہ سری بولتی ہے

وہ تو آتا ہی نہیں وقت گزرتا جائے

تنگ ہو کر یہ مجھے روز گھڑی بولتی ہے

اپنا گھر چھوڑ کے طارق تو یہاں پر آ جا

خواب میں آ کے مجھے اس کی گلی بولتی ہے


طارق عزیز سلطانی

No comments:

Post a Comment