Thursday, 3 March 2022

منزلیں دیکھتے دیکھتے چل دئیے

 منزلیں دیکھتے دیکھتے چل دئیے

یار سب کھیلتے کھیلتے چل دئیے

دامنِ غیر کو ہم نے تھاما نہیں

تہمتیں عشق کی جھیلتے چل دئیے

آگ جن کے مزاجوں میں لگتی رہی

اب سبھی آگ وہ سیکتے چل دئیے

پھر غریب الوطن دیکھنا دیس میں

جو وطن بیچتے بیچتے چل دئیے

مقصدِ زندگی بھول امبر گئے

پاپڑِ زیست وہ بیلتے چل دئیے


شہباز امبر رانجھا

No comments:

Post a Comment