منزلیں دیکھتے دیکھتے چل دئیے
یار سب کھیلتے کھیلتے چل دئیے
دامنِ غیر کو ہم نے تھاما نہیں
تہمتیں عشق کی جھیلتے چل دئیے
آگ جن کے مزاجوں میں لگتی رہی
اب سبھی آگ وہ سیکتے چل دئیے
پھر غریب الوطن دیکھنا دیس میں
جو وطن بیچتے بیچتے چل دئیے
مقصدِ زندگی بھول امبر گئے
پاپڑِ زیست وہ بیلتے چل دئیے
شہباز امبر رانجھا
No comments:
Post a Comment