Thursday, 3 March 2022

سرد پتھریلی زمینوں میں گڑے رہنا ہے

 سرد پتھریلی زمینوں میں گڑے رہنا ہے 

یعنی حالات کو اب یونہی کڑے رہنا ہے 

اس نے بے ساختہ کہہ جانا ہے سب کچھ مجھ سے

میں نے لفظوں کے چناؤ میں اڑے رہنا ہے

ایک دستک پہ وہ دروازہ نہیں کھولے گا 

اسے معلوم جو ہے میں نے کھڑے رہنا ہے 

کسی منظر کی کشش اتنی زیادہ بھی نہ ہو

آخر آنکھوں کو بھی چہرے میں جڑے رہنا ہے

شکل بھی اپنی نہیں دیکھنی آئینے میں

عمر بھر اس کے لیے خود سے لڑے رہنا ہے


احمد سلیم رفی

No comments:

Post a Comment