سرد پتھریلی زمینوں میں گڑے رہنا ہے
یعنی حالات کو اب یونہی کڑے رہنا ہے
اس نے بے ساختہ کہہ جانا ہے سب کچھ مجھ سے
میں نے لفظوں کے چناؤ میں اڑے رہنا ہے
ایک دستک پہ وہ دروازہ نہیں کھولے گا
اسے معلوم جو ہے میں نے کھڑے رہنا ہے
کسی منظر کی کشش اتنی زیادہ بھی نہ ہو
آخر آنکھوں کو بھی چہرے میں جڑے رہنا ہے
شکل بھی اپنی نہیں دیکھنی آئینے میں
عمر بھر اس کے لیے خود سے لڑے رہنا ہے
احمد سلیم رفی
No comments:
Post a Comment