Thursday, 3 March 2022

بولتا کوئی نہیں لگتا ہے ڈر کھا جائے گا

 بولتا کوئی نہیں،۔ لگتا ہے ڈر کھا جائے گا

سب زباں والوں کو خاموشی کا شر کھا جائے گا

کرب وہ کیڑا ہے جو گر لگ گیا اشجار کو

چھال، لکڑی، پھول، پتے اور ثمر کھا جائے گا

ہو گیا ہے اژدھا بے حس برودت کے سبب

ہوش میں آنے دو، جو آیا نظر کھا جائے گا

جس کو دردِ عشق میں برباد دیکھو، دیکھنا

عالمِ وحشت میں اپنا گھر کا گھر کھا جائے گا

عقل سے عاری کو عالم علم دے کیسے کوئی

اس کو پڑھنا کچھ نہیں ہے الٹا سر کھا جائے گا

سود کے آسیب نے قرضوں میں غوطہ دے دیا

خشک لقمہ جونہی ہو جائے گا تر، کھا جائے گا

کج یقیں کو راز!! مل جائے اگر مالِ حرام

کھا کے وہ اُگلے گا پھر بارِ دگر کھا جائے گا


قاسم راز

No comments:

Post a Comment