وفا کرو گے، نبھاؤ گئے تم تو کیا ملے گا
یہ لفظ ہیں بس انہیں نبھاؤ، صلہ ملے گا
میں آج خود سے بھی ہار بیٹھی ہوں زندگی میں
وہ جس کو آنا، وہ جس کو ملنا ہے، آ ملے گا
جو چاروں جانب سے تیر کھانے کو آ گئے ہیں
انہیں بھی یاں پر مرے خدا کا پتہ ملے گا
نہ زندگی ہے، نہ آگہی ہے نہ موت ہے یہ
مگر یہ کیا ہے جو آج وحشت نما ملے گا
مجھے جدائی کی رسم پوری نہیں ہے کرنی
اسے خبر ہے مگر وہ پھر بھی خفا ملے گا
محبتوں کے میں جس سمندر میں غوطہ زن ہوں
وہ موج بن کر کبھی تو مجھ کو بھی آ ملے گا
مدیحہ شوق
No comments:
Post a Comment