اشخاصِ شہرِ دل کو ستمگر بنا دیا
مجھ کو تمہارے عشق نے بہتر بنا دیا
مے پی کے آ گئیں ہیں حقیقت پسندیاں
مے خواریوں نے مجھ کو سخنور بنا دیا
دوراں نماز یادِ ستمگر نہیں گئی
کہیۓ جناب کیا مجھے کافر بنا دیا
فرقت کی سختیوں نے ذرا دیکھیو حکیم
کیوں میرے قلبِ نرم کو پتھر بنا دیا
آقائے کائناتﷺ کا یہ بھی کمال ہے
مہتاب سے بھی آپﷺ کو سندر بنا دیا
کیوں التمش کو غم کے سہارے پہ چھوڑ کر
دل کو مسرتوں کا نفی گر بنا دیا
رانا التمش
No comments:
Post a Comment