Wednesday, 16 February 2022

قدم بڑھاؤ اے صنف آہن

 صنفِ آہن


یہ صنفِ نازک نہیں ہے لوگو

ردا کا پیکر، حجاب اوڑھے

حیا کے دامن کو ساتھ جوڑے

وطن کی حُرمت

ہماری بیٹی، ہمارا بازو

ہماری جائی ہے، آبرو ہے

اسے بھی دھرتی سے پر لگا کر

فلک کو چُھونے کی آرزو ہے

قدم بڑھاؤ اے صنفِ آہن

کہ تم ہی قاسم کی وارثا ہو

کہ تم ہی دھرتی کی پارسا ہو

ہر ایک فاشسٹ سوچ پیروں سے روند کر 

بس نکل پڑو تم

کہ سُوئے منزل کو چل پڑو تم

یہ صنفِ آہن کا ایک نعرہ

گلے میں پٹکے سجائے مردوں کی 

دفن ہوتی سماعتوں میں ابد تلک یوں گڑا رہے گا

خدا بڑا ہے، خدا بڑا ہے

بڑا رہے گا


عاطف جاوید عاطف

No comments:

Post a Comment