مکیں نہیں کوئی
مِرے قریب تو عورت ہی زندگی ہے یہاں
اسی بدن سے تخیل کی ہے نموداری
اسی کی ناف سے جُڑنا ہے زندگی کی بقاء
اسی کے سینۂ قلزم سے کائنات میں نم
اسی کی کوکھ کے پردوں کو چُھو کے اب بھی حیات
ازل سے عشق کی وحدت میں ڈھل رہی ہے یہاں
اسی کے پاؤں تلے ہے بہشت کی چادر
اسی کی چاپ کی حدت سے سبزہ و گُل ہیں
اسی کے حسنِ تمازت سے وحدت و کُل ہیں
یہ چاروں اور جو دیکھتی ہے کثرتِ وحدت
جو سچ کہوں دلِ کافر! وجودِ زن سے ہے
سو اس سے بڑھ کے جہاں میں حسیں نہیں کوئی
سو اس سوا مِرے دل میں مکیں نہیں کوئی
سو اس سوا مِرے دل میں مکیں نہیں کوئی
ندیم ناجد
No comments:
Post a Comment