پلایا خونِ جگر پھر بھی با وفا نہ ہوئے
رفیق میرے کبھی میرے ہمنوا نہ ہوئے
چراغ پھونک دیے میں نے راہِ الفت کے
کہ یہ چراغ کہیں سنگ آشنا نہ ہوئے
اسے میں دُکھڑے سناتا بڑے تحمل سے
مگر زبان سے دو حرف ہی ادا نہ ہوئے
سروں پہ عورتیں اب بھی گھڑے اٹھاتی ہیں
ہمارے گاؤں ترقی سے آشنا نہ ہوئے
فراقِ یار سہا سینہ تان کر ہم نے
فراقِ یار میں زندہ رہے، فنا نہ ہوئے
ہزار پردے چڑھائے ہیں بنتِ حوا نے
مگر گلی میں کھڑے مرد با حیا نہ ہوئے
قبیلِ دشت سے شاید اٹھا ہے اپنا خمیر
کہ جسم اپنے کبھی واقفِ ہوا نہ ہوئے
ظہور عالم
No comments:
Post a Comment