Thursday, 23 December 2021

اپنے اپنے سوراخوں کا ڈر

 اپنے اپنے سوراخوں کا ڈر


نئی سڑکوں کے نقشے کارخانے

اونچے اونچے پل 

مِرے منصوبے دیکھو اور کتابوں میں پڑھو

اس نے کہا؛ میرے بدن پر ہاتھ بھی پھیرو

مگر سوراخ سے انگلی الگ رکھو

مگر اس کے بدن پر 

ہر طرف سوراخ ہی سوراخ ہیں

انگلی الگ رکھو

تو کیا میں انگلیوں کو توڑ دوں

میں انگلیوں کو توڑ دوں

پھر کون تیرے حسن کی تفسیر لکھے گا، بتا

پھر یہ تسلسل رات دن کا

چاند سورج کا اکیلے موسموں کا

مسئلوں اور مشکلوں کا

کیسے ٹوٹے گا، بتا

اس نے ہمیں ایک دوسرے سے چھپ کے رہنے کے لیے

کپڑے دئیے اور خوب صورت گھر دئیے

اور بند کمروں میں زمینوں آسمانوں کی سبھی سچائیاں کہنے اور ان

پر بحث کرنے اور منصوبے بنانے کی کھلی آزادی دی

یارو! چلو سڑکوں پہ ننگے سیر کرنے جائیں

شاید رسم چل نکلے

مگر میرے قبیلے کا کوئی بھی مرد

کپڑے پھاڑ کر گھر کو جلا کے

ننگی ننگی باتیں کہنے کے لیے باہر نہ نکلا

سب کو اپنے اپنے سوراخوں کا ڈر تھا


عباس اطہر

No comments:

Post a Comment