عشق کی رسم نبھانا تھی نبھا لی میں نے
درد کی بستی بسانا تھی بسا لی میں نے
وہ ضرور آئے گا اک آس لگا لی میں نے
گھر کی ہر چیز قرینے سے سجا لی میں نے
آج پھر چائے بناتے ہوئے وہ یاد آیا
آج پھر چائے میں پتی نہیں ڈالی میں نے
آگ دہکی تو نکلنا پڑا کمرے سے مگر
اس کی تصویر کسی طرح بچا لی میں نے
نام اس کا ہی لیا کرتی ہے وہ شام و سحر
ایک مینا جو بڑے پیار سے پالی میں نے
وہ تو محفل میں ہی اعلان وفا کر دیتا
بات مت پوچھئے پھر کیسے سنبھالی میں نے
گھر کی بنیاد کے پتھر بھی سڑک پر ہوتے
وہ تو اچھا ہوا دیوار بچا لی میں نے
ترونا مشرا
No comments:
Post a Comment