Friday, 19 November 2021

عشق کی رسم نبھانا تھی نبھا لی میں نے

 عشق کی رسم نبھانا تھی نبھا لی میں نے

درد کی بستی بسانا تھی بسا لی میں نے

وہ ضرور آئے گا اک آس لگا لی میں نے

گھر کی ہر چیز قرینے سے سجا لی میں نے

آج پھر چائے بناتے ہوئے وہ یاد آیا

آج پھر چائے میں پتی نہیں ڈالی میں نے

آگ دہکی تو نکلنا پڑا کمرے سے مگر

اس کی تصویر کسی طرح بچا لی میں نے

نام اس کا ہی لیا کرتی ہے وہ شام و سحر

ایک مینا جو بڑے پیار سے پالی میں نے

وہ تو محفل میں ہی اعلان وفا کر دیتا

بات مت پوچھئے پھر کیسے سنبھالی میں نے

گھر کی بنیاد کے پتھر بھی سڑک پر ہوتے

وہ تو اچھا ہوا دیوار بچا لی میں نے


ترونا مشرا

No comments:

Post a Comment