ہائے، فراقِ یار میں یہ زندگی رہی
راہِ وفا میں کیسی مری بے بسی رہی
تیرے بغیر زندہ رہا ہوں میں اس طرح
گردن پہ میری وقت کی جیسے چھری رہی
میں ہی سمجھ سکا نہ رقیبوں کی چال کو
کہہ بیٹھا حال خوب مِری سادگی رہی
سمجھا غزل اسے، کئی دیوان کر دئیے
میرا نصیب بے اثر یہ شاعری رہی
اس عشقِ یار نے مجھے بے حال کر دیا
نادان دل کی کہنے کو اک دل لگی رہی
تیرے شہر نے تیری طرح نظریں پھیر لیں
بس ساتھ ساتھ یہ نری دیوانگی رہی
خود کو نہ سمجھا اور نہ انسان کو کبھی
کیوں جانے دور مجھ سے مِری آگہی رہی
ضیا شہزاد
No comments:
Post a Comment