Wednesday, 17 November 2021

چمن میں سیر گل کو جب کبھی وہ مہ جبیں نکلے

 چمن میں سیر گل کو جب کبھی وہ مہ جبیں نِکلے

مِری تارِ رگِ جاں سے صدائے آفریں نکلے

سمجھ جاتا ہوں فوراً کیا ہے مطلب لن ترانی کا

مِری خواہش پہ جب پردے سے وہ پردہ نشیں نکلے

فلک نے جب کِیا حملہ مِری شاخِ نشیمن پر

جو دشمن سامنے آئے وہ اپنے ہم نشیں نکلے

وہ جن سے شہد مانگا تھا انہوں نے زہر دے ڈالا

جنہیں سمجھا تھا میں ہمدم، وہ مار آستیں نکلے

میں جب ان دوستوں کی بے رخی پر غور کرتا ہوں

مِرے غم خانۂ دل سے فغانِ آتشیں نکلے

تِری محفل میں ہر بہروپئے کا ہے مقام اونچا

حقیقت میں جو اہلِ دل ہیں وہ عزلت گزیں نکلے

فروغِ علم بے قدری کی حالت میں نہیں ممکن

خس و خاشاک ہونے کو صدف سے کیوں نگیں نکلے

جنہوں نے کھیت لہرائے ہیں اپنے خوں پسینے سے

عجب طرفہ ہے وہ مردانِ محنت بے زمیں نکلے

گزارے میں نے جو لمحات آغوشِ تصور میں

وہ میری زندگی کے روز و شب میں بہتریں نکلے

میں اپنی آبرو مندی میں پا مردی کا پیکر ہوں

میں وہ آدم نہیں جو چھوڑ کر خلدِ بریں نکلے

وہ مے نوشی میں کرتے ہیں امامت بُت پرستوں کی

جنابِ شیخ مے خانے میں بھی مسند نشیں نکلے


زاہد چوہدری

No comments:

Post a Comment