تِرے خیال کے بادل اُتر کے آئے ہیں
تبھی تو یہ مِرے آنسو ابھر کے آئے ہیں
نئی رُتوں میں کھلے گل تو یہ ہوا محسوس
پرانے درد نیا بھیس دھر کے آئے ہیں
ہماری آنکھوں میں کچھ دیر ڈوب کر دیکھو
تمہارے خواب یہیں سے گزر کے آئے ہیں
ضروری بزم سے اٹھنا ہوا تو اٹھ آئے
تعلقات کہاں ترک کر کے آئے ہیں
یہ سرحدیں کہاں ہوتی ہیں ہر کسی کے لیے
ادھر برسنے کو بادل ادھر کے آئے ہیں
اکیلے جا کے بھی لوٹے نہیں اکیلے ہم
ہمارے ساتھ مناظر سفر کے آئے ہیں
ترونا مشرا
No comments:
Post a Comment