وہ لوٹی ہے سِتاروں کے سفر سے
وہ لوٹی ہے ستاروں کے سفر سے
اور کہتی ہے
زمین و آسماں کی وُسعتوں میں
جھانک کر دیکھا
تِرے جیسا نہیں کوئی
سو اس میں ہم نے سوچا ہے
تِری یادوں کی چادر اوڑھ کر
ہم ساتھ سو جائیں
تِری بانہوں میں کھو جائیں
تِری بانہوں کے حلقے سے
تو دنیا کتنی چھوٹی ہے
مِرے ہمدم، مِرے ساتھی
مجھے بس اتنا کہنا ہے
مجھے تیرا ہی رہنا ہے
صرف تیرا ہی رہنا ہے
وہ لوٹی ہے ستاروں کے سفر سے
اور کہتی ہے
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment