Wednesday, 17 November 2021

وہ لوٹی ہے ستاروں کے سفر سے اور کہتی ہے

 وہ لوٹی ہے سِتاروں کے سفر سے 


وہ لوٹی ہے ستاروں کے سفر سے

اور کہتی ہے

زمین و آسماں کی وُسعتوں میں

جھانک کر دیکھا

تِرے جیسا نہیں کوئی

سو اس میں ہم نے سوچا ہے

تِری یادوں کی چادر اوڑھ کر

ہم ساتھ سو جائیں

تِری بانہوں میں کھو جائیں

تِری بانہوں کے حلقے سے

تو دنیا کتنی چھوٹی ہے

مِرے ہمدم، مِرے ساتھی 

مجھے بس اتنا کہنا ہے

مجھے تیرا ہی رہنا ہے

صرف تیرا ہی رہنا ہے

وہ لوٹی ہے ستاروں کے سفر سے

اور کہتی ہے


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment