Thursday, 18 November 2021

وہ آفتاب میں ہے اور نہ ماہتاب میں ہے

 وہ آفتاب میں ہے اور نہ ماہتاب میں ہے

جو روشنی کہ تِرے حسن بے نقاب میں ہے

چمن میں لالہ و گل شرمسار ہوتے ہیں

عجب طرح کا اثر حسن بے نقاب میں ہے

میں اپنے عشق فراواں پہ ناز کرتا ہوں

مِرا کمال مِرے حسنِ انتخاب میں ہے

اجڑ گیا ہے مِرا گلشنِ حیات مگر

جنونِ شوق مِرا عالمِ شباب میں ہے

نجات اس کی بجز عاشقی نہیں ہو گی

پھنسا ہوا جو زمانے کے پیچ و تاب میں ہے

وہ بزم شوق میں شامل کبھی نہیں ہو گا

جو بے وقوف کہ الجھا ہوا حساب میں ہے

وہ ولولہ ہے مِری زندگی کی روح رواں

جو ولولہ کہ مِرے شوقِ بے حساب میں ہے

وہ بے نقاب کیا جدتِ تخیل نے

جو راز کہنہ روایات کے نقاب میں ہے

مآل جوش عمل سر بلندئ قطرہ

یہ راز زیست نہاں خیمۂ حباب میں ہے

سکوت میں ہے زمانے کی موت پوشیدہ

حیات وہ ہے جو ہر لحظہ اضطراب میں ہے

مجھے قبول نہیں روز و شب کی خاموشی

مِری حیات فقط شور انقلاب میں ہے


زاہد چوہدری

No comments:

Post a Comment