غیر مانوس سے رستوں کا سفر ہے کوئی
اس کو میری نہ مجھے اس کی خبر ہے کوئی
ایک مہمان پرندے نے ہوا سے پوچھا
میں نے اک رات بِتانی ہے شجر ہے کوئی
میرے زخموں کو ضرورت ہے کسی ناخن کی
میرے یاروں میں سے موجود اگر ہے کوئی
جس جگہ تیرے خلیفے کی کوئی عزت ہو
خالقِ ارض و سما! ایسا نگر ہے کوئی؟
ہم نے ہر عاشقِ ناکام سے پوچھا ہے نوید
بے وفاؤں کو بلانے کا ہنر ہے کوئی
نوید عباس
No comments:
Post a Comment