Thursday, 18 November 2021

غیر مانوس سے رستوں کا سفر ہے کوئی

 غیر مانوس سے رستوں کا سفر ہے کوئی

اس کو میری نہ مجھے اس کی خبر ہے کوئی

ایک مہمان پرندے نے ہوا سے پوچھا

میں نے اک رات بِتانی ہے شجر ہے کوئی

میرے زخموں کو ضرورت ہے کسی ناخن کی

میرے یاروں میں سے موجود اگر ہے کوئی

جس جگہ تیرے خلیفے کی کوئی عزت ہو

خالقِ ارض و سما! ایسا نگر ہے کوئی؟

ہم نے ہر عاشقِ ناکام سے پوچھا ہے نوید

بے وفاؤں کو بلانے کا ہنر ہے کوئی


نوید عباس

No comments:

Post a Comment